تاخت و تاراج
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - لوٹ مار، تباہی و بربادی۔ "وہ ازسرنو منظم ہو کر مصر کی سلطنت کو تاخت و تاراج کرنا چاہتے ہیں"۔ ( ١٩٤٧ء، آخری چٹان، ٥٣ )
اشتقاق
فارسی اسم 'تاخت' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی اسم 'تاراج' کے ملنے سے 'تاخت و تاراج' مرکب عطفی بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٤٥ء کو "حکایت سخن سنج" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لوٹ مار، تباہی و بربادی۔ "وہ ازسرنو منظم ہو کر مصر کی سلطنت کو تاخت و تاراج کرنا چاہتے ہیں"۔ ( ١٩٤٧ء، آخری چٹان، ٥٣ )
جنس: مؤنث